اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں واقع گریسی مینشن میں ملاقات کی۔ دونوں کے درمیان سیاسی معاملات پر گہرے اختلافات کے باوجود ملاقات دوستانہ ماحول میں ہوئی اور اس دوران رہائش، مہاجرت اور نیویارک کے بعض شہری مسائل پر بات چیت کی گئی۔
ٹرمپ نے ملاقات کے دوران کہا کہ وہ پہلے چاہتے تھے کہ ممدانی ’’بہت خراب میئر‘‘ ثابت ہوں، لیکن اب انہیں امید ہے کہ ممدانی نیویارک کے لیے ایک بہترین میئر ثابت ہوں گے۔ ممدانی نے بھی کہا کہ وہ ہر ایسے شخص کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں جو نیویارک کے شہریوں کے لیے عملی نتائج حاصل کر سکتا ہو۔
یہ ملاقات اس لیے بھی اہم تھی کہ ٹرمپ اور ممدانی امریکی سیاست میں ایک دوسرے سے مختلف سیاسی نظریات رکھتے ہیں۔ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ ممدانی ’’ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ‘‘ کے رکن ہیں۔ ٹرمپ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ڈیموکریٹس کو ’’بے دین کمیونسٹ‘‘ جیسے الفاظ سے تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں، جبکہ ممدانی بھی ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں، خاص طور پر مہاجرت اور مشرق وسطیٰ میں جنگوں سے متعلق پالیسیوں کے ناقد رہے ہیں۔ ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ہیں اور ٹرمپ نے اپنے حالیہ سیاسی دور میں مہاجروں اور مسلمانوں کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
ان اختلافات کے باوجود کیمروں کے سامنے ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں کا انداز دوستانہ نظر آیا۔ یہ 45 سال بعد کسی امریکی صدر کی گریسی مینشن میں پہلی آمد تھی۔ اس سے قبل 1981 میں صدر رونالڈ ریگن نیویارک کے اس وقت کے میئر ایڈ کوچ سے ملاقات کے لیے گریسی مینشن آئے تھے۔
ملاقات میں اہم موضوعات میں نیویارک میں گھروں کی کمی اور کم آمدنی والے شہریوں کے لیے قابلِ استطاعت رہائش کی فراہمی بھی شامل تھی۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے کہا کہ نیویارک کے علاقے کوئنز میں سنی سائیڈ یارڈ کے مقام پر 12 ہزار رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کے منصوبے پر مذاکرات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
تاہم مہاجرت کے معاملے پر دونوں کے اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ ممدانی نے کہا کہ ملاقات میں انہوں نے ہیٹی کے شہریوں سے مہاجرتی تحفظ واپس لینے کے ٹرمپ حکومت کے فیصلے پر بات کی اور نیویارک میں مقیم مہاجروں، خاص طور پر ہیٹی کی کمیونٹی کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر اپنا مؤقف ٹرمپ کے سامنے ’’بہت واضح‘‘ انداز میں پیش کیا۔ ممدانی کے مطابق مختلف معاملات پر دونوں کے درمیان ’’بہت سے اختلافات‘‘ موجود ہیں۔
یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی جب ملاقات سے ایک روز قبل ممدانی اور میکسیکو سٹی کی میئر کلارا بروگادا نے نیویارک میں سامان پہنچانے والے مہاجر کارکنوں سے ملاقات کی تھی۔ ان کارکنوں نے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، یعنی آئی سی ای، کی جانب سے گرفتاریوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
ملاقات میں صحافتی آزادی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ٹرمپ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے فیصلے کے بارے میں سوال پر ممدانی نے کہا کہ انہوں نے صدر سے کہا ہے کہ تمام میڈیا اداروں کے صحافیوں کو وہاں موجود رہنے کی اجازت ہونی چاہیے اور وہ اس اصول پر یقین رکھتے ہیں۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا جب مذکورہ تینوں میڈیا اداروں نے اسی روز ٹرمپ حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان اداروں نے مطالبہ کیا کہ ان کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں دوبارہ رسائی دی جائے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی خبری کوریج کی وجہ سے رسائی ختم کرنا امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں صحافت کو حاصل حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ممدانی کے بیان پر ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں میئر سے متفق نہیں ہیں اور دعویٰ کیا کہ یہ میڈیا ادارے جھوٹی خبریں شائع کرتے ہیں۔
دوسری جانب، ممدانی نے رواں ماہ ٹرمپ حکومت کے خلاف دائر ایک مقدمے میں نیویارک اور 21 دیگر ریاستوں کا ساتھ دیا ہے۔ یہ مقدمہ ’’پبلک چارج‘‘ قانون میں تبدیلی کے خلاف ہے۔ مدعیان کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے مہاجر برادریاں متاثر ہوں گی۔ گارڈین کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ گریسی مینشن میں ہونے والی ملاقات کے دوران اس مقدمے پر بھی بات ہوئی یا نہیں۔
اس طرح گریسی مینشن میں ہونے والی ملاقات اگرچہ دوستانہ انداز اور باہمی تعاون کے عزم کے ساتھ ہوئی، لیکن مہاجرت، مہاجرین کے حقوق اور صحافتی آزادی سمیت کئی اہم معاملات پر ٹرمپ اور ممدانی کے اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
مجموعی طور پر اس ملاقات کا مقصد ٹرمپ اور ممدانی کے درمیان سیاسی اختلافات ختم کرنا نہیں بلکہ نیویارک کے شہریوں سے متعلق ایسے معاملات تلاش کرنا تھا جن پر دونوں مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے نیویارک کے نئے میئر کی کامیابی کے لیے امید کا اظہار کیا، جبکہ ممدانی نے کہا کہ ان کے لیے تعاون کا معیار یہ ہے کہ جو بھی نیویارک کے شہریوں کے مسائل حل کرنے میں عملی کردار ادا کر سکے، اس کے ساتھ کام کیا جائے۔ اس کے باوجود مہاجرت، میڈیا اور وفاقی حکومت کی پالیسیوں سمیت کئی بنیادی معاملات پر دونوں کے اختلافات بدستور موجود ہیں۔ یہ ملاقات نیویارک میں ٹرمپ کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل ہوئی۔
آپ کا تبصرہ